Naat
Yeh Hasrat Hai Tamanna Ban Ke Laptoon Un Ke Daamaan Se
یہ حسرت ہے تمنا بن کے لپٹوں ان کے داماں سے ﷺ
Urdu Kalam
مطلع
یہ حسرت ہے تمنا بن کے لپٹوں ان کے داماں سے
رہائی جب ملے مجھ کو اس آب و گل کے زنداں سے
مری مٹی ٹھکانے لگ چکی تھی فضل یزداں سے
صبا ناحق اڑا لائی مدینے کے بیاباں سے
خدا شاہد زمانہ سرکٹاتا حسنِ یوسف پر
نمک تھوڑا سامل جاتا اگر ان کے نمکداں سے
ترے قرباں بتا دے کیوں یہ طوفاں پانی پانی ہے
تری رحمت نے بڑھ کر کیا کہا سیلابِ عصیاں سے
مہ و خورشید سے کہہ دو کہ آئیں بھیک لینے کو
ہویدا وہ ہوئے جلوے پھر ان کے یوسفتاں سے
یہ کس کی یاد میں رہ رہ کے قلب مضطرب رویا
یہ کیسے آج موتی جھڑ رہے ہیں نوک مژگاں سے
پھنسی ہے کشتئ ملت بھنور میں یارسول اللہﷺ
اشارہ آپ کا گر ہو نکل جائے یہ طوفاں سے
نہ یوں بیتاب ہو قلب حزیں آنے تو دے ان کو
گرایا بے خودی نے اور میں لپٹا اُن کے داماں سے
مقطع
خلیؔل ان کا ہے تو پھر خوف کیا دنیا کے کتوں کا
سگانِ یار تو ڈرتے نہیں ہیں شیر نیساں سے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
سے
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: سے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
18
Writer
Mufti Muhammad Khaleel Barkati
Book
Jamal-e-Khaleel