Naat
Zamana Haj Ka Hai Jalwa Diya Hai Shahid-e-gul Ko
زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو
Urdu Kalam
مطلع
زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو
الٰہی طاقتِ پرواز دے پر ہائے بلبل کو
بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کا
لب مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو
ملے لب سے وہ مشکیں مُہر والی دم میں دم آئے
ٹپک سن کر ’’قُمِ‘‘ عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو
مچل جاؤں سوالِ مدّعا پر تھام کر دامن
بہکنے کا بہانہ پاؤں قصدِ بے تأمل کو
دُعا کر بختِ خفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے
ہٹایا صبحِ رخ سے شانے نے شب ہائے کاکُل کو
زبانِ فلسفی سے امن خرق والتیام اسرا
پناہِ دورِ رحمت ہائے یک ساعت تسلسل کو
دو شنبہ مصطفیٰ کا جمعۂ آدم سے بہتر ہے
سکھانا کیا لحاظِ حیثیت خوئے تأمل کو
وفورِ شانِ رحمت کے سبب جرأت ہے اے پیارے
نہ رکھ بہرِ خُدا شرمندہ عرضِ بے تأمل کو
پریشانی میں نام ان کا دلِ صد چاک سے نکلا
اجابت شانہ کرنے آئی گیسوئے توسّل کو
رؔضا نُہ سبزۂ گردوں ہیں کوتل جس کے موکب کے
کوئی کیا لکھ سکے اس کی سواری کے تجمّل کو
مقطع
حدائقِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
کو
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: کو
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
21
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish