Naat
وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری
عیاں ہونے لگے انوارِ باری
Naat
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں ستارے انبیا مہر عجم ماہِ عرب
Naat
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا ورا ہے
Naat
روضۂ اطہر کا ارماں کل بھی تھا اور آج بھی
عاصیوں بخشش کا ساماں، کل بھی تھا اور آج بھی
Naat
جان و دل یارب ہو قربانِ حبیب کبریا
اور ہاتھوں میں ہو دامانِ حبیب کبریا
Naat
دل کہتا ہے ہر وقت صفت ان کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
Naat
کیا لکھوں میں بھلا رسول اللہ
آپ کا مرتبہ رسول اللہ
Naat
خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اضطراب کیسا
Naat
معروضۂ ببارگاہ شہزادیِ کونین ام الحسنین خاتون جنت
ہے رتبہ اس لئے کونین میں عصمت کا عفت کا
Naat
منقبت شریف سیدنا امام عالی مقام حضرت حسین
شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے