Naat
Ae Dil Toodroodoon Ki Awwal To Saja Daalee
اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی
Urdu Kalam
مطلع
اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی
پھر جا کر مدینہ میں روضے پہ چڑھا ڈالی
کیا نذر کروں تیرے دربار مقدس میں
توصیف کے پھولوں کی لایا ہوں شہا ڈالی
احمد کو کیا آقا اور ہم کو کیا بندہ
اللہ نے رحمت کی کیا خوب بنا ڈالی
بس جائے دماغ جاں عشاق کا خوشبو سے
لاباغ مدینہ سے پھولوں کی صبا ڈالی
خورشید و قمر ایسے ہوتے نہ کبھی روشن
تو نے ہی جھلک ان میں اے نور خدا ڈالی
تم سے نہ کہوں کیوں کر تم چاند عرب کے ہو
دیکھو تو شب غم نے کیا مجھ پہ بلا ڈالی
شرمندہ کیا مجھ کو آگے میرے آقا کے
اے نفس ِلعیں تونےمجھ پریہ بلاڈالی
مولیٰ میرےنامے سےدُھل جائیں گےسب عصیاں
اک بونداگرتونےاےابرِسخاڈالی
مجرم ترے ارمانوں کا ہے باغ پھلا پھولا
لے فرد گنا ہوں کی مولیٰ نے مٹا ڈالی
سب بھر دیے زخمِ دل سرکار مدینہ نے
قلبو ں میں غلاموں کے رحمت کی دوا ڈالی
کچھ ایسی گھٹا نوری امنڈی کہ تری امت
پاک ہوگئی رحمت کی بارش میں نہا ڈالی
واللہ مدد ان کی ہر دم ہے کمر بستہ
جو بات مری بگڑی مولیٰ نے بنا ڈالی
مقبول اسے کیجیے اور اس کا صلہ دیجیے
لایا ہے جمیل اپنے ارماں کی سجا ڈالی
مقطع
قبالۂ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Akhrab Salim
Arkaan
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
Radif
ڈالی
Zameen
بحر: ہزج مثمن اخرب سالم؛ ردیف: ڈالی
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
27
Writer
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri
Book
Qabala-e-Bakhshish