Naat
Mein Madine Ko Chala Zair Rauza Ho Kar
میں مدینے کو چلا زائر روضہ ہو کر
Urdu Kalam
مطلع
زائر روضہ
میں مدینے کو چلا زائر روضہ ہو کر
کِھل گیا غنچہء دل کیسا شگفتہ ہو کر
اسکی خوشیوں کا کہیں کوئی ٹھکانہ ہی نہیں
جو کوئی گھر سے چلا عازم طیبہ ہو کر
در آقاﷺ پہ جمائیں جو نگاہیں میں نے
دل چمکنے لگا پھر خوب مجلاّ ہو کر
در سرکار سے پائے جو ہزاروں تحفے
میں تو پھولا نہ سمایا ہوں شگفتہ ہو کر
میں مدینے میں رہوں آپکا نوکر بن کے
اور ٹھکانے سے لگوں خاک مدینہ ہو کر
قافلے والو رکو اتنی بھی جلدی کیا ہے
میں ذرا سانس تو لوں سوئے مدینہ ہو کر
جب سے انوار مدینہ میں دھلا ہے حافؔظ
مقطع
تو وہ ذرہّ ہے جو چمکا ہے نگینہ ہو کر
(۲۰ فروری ۲۰۱۷۔ ۲۲ جمادی الاوی ۱۴۳۸ھ) نزیل مدینہ
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Madeed Musamman Makhboon
Arkaan
فَعِلاتن فَعِلن فَعِلاتن فَعِلن
Radif
ہو کر
Zameen
بحر: مدید مثمن مخبون؛ ردیف: ہو کر
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
16
Writer
Ibn-e-Khaleel Ahmad Miyan Hafiz Al-Barkati
Book
Hadaiq-e-Barakat