Naat
Phir Ke Gali Gali Tabaa Thookareen Sab Ki Khaaye Kyun
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
Urdu Kalam
مطلع
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں
سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں
بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوائیں کیوں
یادِ حضور کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم
خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں
دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھی
چھائی ہے اب تو چھاؤنی حشر ہی آ نہ جائے کیوں
جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اُٹھائے کیوں
ہم تو ہیں آپ دل فگار غم میں ہنسی ہے نا گوار
چھیڑ کے گل کو نو بہار خون ہمیں رُلائے کیوں
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منّتِ غیر کیوں اٹھائیں کوئی ترس جتائے کیوں
اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر
جو کہ ہو لوٹ زخم پر داغِ جگر مٹائے کیوں
خوش رہے گل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب
میری بلا بھی ذِکر پر پھول کے خار کھائے کیوں
گردِ ملال اگر دُھلے دل کی کلی اگر کھلے
بَرق سے آنکھ کیوں جلے رونے پہ مسکرائے کیوں
جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
کھٹکا اگر سحر کا ہو شام سے موت آئے کیوں
اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی
میرے کریم پہلے ہی لقمۂ تر کھلائے کیوں
راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاض دیدہ کی
چادرِ ظل ہے ملگجی زیرِ قدم بچھائے کیوں
سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں
ہے تو رؔضا نرا ستم جرم پہ گر لجائیں ہم
کوئی بجائے سوزِ غم سازِ طرب بجائے کیوں
مقطع
(حدائقِ بخشش)
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Rajaz Musamman Matwi Makhboon
Arkaan
مفتَعِلن مفاعلن مفتَعِلن مفاعلن
Radif
کیوں
Zameen
بحر: رجز مثمن مطوی مخبون؛ ردیف: کیوں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
33
Writer
Aala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan
Book
Hadaiq-e-Bakhshish