Naat
Woh Barhtaa Saya-e-deewar Rahmat Chala Zulf Muanbar Ka
وہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلف معنبر کا
Urdu Kalam
مطلع
وہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلف معنبر کا
ہمیں اب دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا
جو بے پردہ نظر آجائے جلوہ روئے انور کا
ذرا سا منہ نکل آئے ابھی خورشید خاور کا
شہِ کوثر ترحم تشنۂ دیدار جاتا ہے
نظر کا جام دے پردہ رخِ پر نور سے سر کا
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
یہاں آتے ہیں یوں عرشی کہ آوازہ نہیں پرکا
ہماری سمت وہ مہر مدینہ مہرباں آیا
ابھی کھل جائے گا سب حوصلہ خورشید محشر کا
چمک سکتا ہے تو چمکے مقابل ان کی طلعت کے
ہمیں بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا
رواں ہوسلسبیل عشقِ سرور میرے سینے میں
نہ ہو پھر نار کا کچھ غم نہ ڈر خورشیدِ محشر کا
ترا ذرہ وہ ہے جس نے کھلائے ان گنت تارے
ترا قطرہ وہ ہے جس سے ملا دھارا سمندر کا
بتانا تھا کہ نیچر ان کے زیرِ پا مسخر ہے
بنا پتھر میں یوں نقشِ کفِ پا میرے سرور کا
وہ ظاہر کے بھی حاکم ہیں وہ باطن کے بھی سلطاں ہیں
نرالا طور سلطانی ہے شاہوں کے سکندر کا
یہ سن لیں سایۂ جسمِ پیمبر ڈھونڈنے والے
بشر کی شکل میں دیگر ہے وہ پیکر پیمبر کا
مقطع
وہ ظلِ ذاتِ رحماں ہیں نبوت کے مہِ تاباں
نہ ظِل کا ظِل کہیں دیکھا نہ سایہ ماہ و اخترؔ کا
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Ramal Musamman Makhboon Mahzoof Maqtoo
Arkaan
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
Radif
کا
Zameen
بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع؛ ردیف: کا
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
24
Writer
Taj-ush-Shariah Mufti Akhtar Raza Qadri Azhari
Book
Safina-e-Bakhshish