Naat
سردارِ اہلِ جنت
ہیں عشق کی علامت سردارِ اہلِ جنت
Naat
راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں
مصطفیٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں
Naat
گذرے جس راہ سے وہ سیّدِ والا ہو کر
رہ گئی ساری زمیں عنبرِ سارا ہو کر
Naat
وصفِ رخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس و ضحیٰ کرتے ہیں
اُن کی ہم مدح وثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں
Naat
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
Naat
حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
Naat
لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
Naat
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے
Naat
ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہِ یوسف کی طرح شانِ قفس
Naat
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا