Naat
رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ
Naat
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
Naat
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
دل تھا ساجد نجدیا پھر تجھ کو کیا
Naat
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے
Naat
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
اُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف
Naat
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
دے مرے درد کی دوا یا رب
Naat
اگر قسِمت سے میں اُن کی گلی میں خاک ہو جاتا
غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا
Naat
ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہر عرب
دے دو مرے دل کو جلا ماہِ عجم مہر عرب
Naat
دلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا درد الفت ہی دل کی دوا ہے