Naat
گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے
مُبارک ہو شفاعت کے لیے احمد سا والی ہے
Naat
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا تجھے حمد ہے خدایا
Naat
جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
صدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے
Naat
مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
عروج و اَوج ہیں قربانِ بارگاہِ رفیع
Naat
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا
Naat
ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق
Naat
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رنج و الم کی صورت
Naat
رباعیات
کفش پا ان کی رکھوں سر پہ تو پاؤں عزت
Naat
وہ سرکار عالی مقام آرہا ہے
شہنشاہِ ذی اقتدار آرہا ہے