Hamd
لَحد میں عشقِ رخِ شہ کاداغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لیکے چلے
Naat
پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں
کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں
Hamd
یاالہٰی رحم فرما مصطفٰی کے واسطے
یارسول اللہ کرم کیجے خدا کے واسطے
Hamd
بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے
کلیاں کِھلیں دِلوں کی ہوا یہ کِدھر کی ہے
Hamd
یا شہیدِ کربلا یا دافعِ کرب و بلا
گُل رُخَا شہزادۂ گُلگُوں قَبا امداد کن
Naat
اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
Hamd
محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا
نظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا
Naat
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
دِل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
Naat
عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی