Naat
Ishq Wale Hain Hum Bas Raza Chaahye
عشق والے ہیں ہم بس رضا چاہئے
Urdu Kalam
مطلع
عشق والے ہیں ہم بس رضا چاہئے
ہاں رضا چاہئے بس رضا چاہئے
خاکِ میّت میری تجھکو کیا چاہئے
خاکِ پائے نبی سے لقا چاہئے
ان کے لطف و کرم میں کٹے زندگی
اور محشر میں ظلِّ ردا چاہئے
زندگی ساتھ چھوڑے میرا جس گھڑی
آپ آجائیں بس اور کیا چاہئے
اس جگہ کے شہنشاہ حسنین ہیں
اک جہاں کو جہاں پر جگہ چاہئے
مومنوں دشمنانِ نبی سے بچو
روشنی قبر میں گر سدا چاہئے
قائلِ بے بسی کو ملیں بے بسی
ہم کو لطفِ حبیبِ خدا چاہئے
مانگ لو مانگ لو دو جہاں کی بقا
مسکِ شاہ احمد رضا چاہئے
اے طبیبوں ہٹو دور ہو تم ذرا
عشق ہے یہ میرا کیوں دوا چاہئے
حشر میں ہم پکاریں گے جب یا نبی
آپ آکر کہو کیا بتا چاہئے
اے فرشتوں ہٹو اُمتی ہے میرا
اس پہ حق ہے میرا تم کیا چاہئے
دیکھ کر یہ سماں متقی بول اُٹھیں
عاصیوں ہم کو بھی یہ خطا چاہئے
کیاریانِ جناں صبر ان میں کہاں
اس جہاں میں ہی پائے شہا چاہئے
مقطع
تیری فاران بعدِ جناں التجا
مجھ کو کوئے نبی کا پتہ چاہئے
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Mutadarik Musamman Salim
Arkaan
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
Radif
چاہئے
Zameen
بحر: متدارک مثمن سالم؛ ردیف: چاہئے
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
28
Writer
Maulana Mufti Muhammad Faran Raza Khan
Book
Faran