Naat
Munawwar Meri Aankhon Ko Mere Shams Ad-Duha Krdeen
منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
Urdu Kalam
مطلع
منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلف دوتا کردیں
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں
جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں
زمیں کو آسماں کردیں ثریا کو ثریٰ کردیں
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں
وہ جب چاہیں جسے چاہیں اسے فرماں رَوا کردیں
ہر اک موجِ بلا کو میرے مولیٰ ناخدا کردیں
مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں
ہر اک موجِ بلا کو بحر غم میں ناخدا کردیں
مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں
عطا ہو بے خودی مجھ کو خودی میری ہوا کردیں
مجھے یوں اپنی الفت میں مرے مولیٰ فنا کردیں
جہاں میں عام پیغام شہ احمد رضا کردیں
پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدید وفا کردیں
نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر ، مادر ، برادر ، مال و جاں ان پر فدا کردیں
تبسم سے گماں گزرے شب تاریک پر دن کا
ضیائِ رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں
شب تاریک پر دن کا گماں گزرے تبسم سے
ضیائِ رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں
کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں
وہ یونہی آزماتے ہیں وہ اب تو فیصلہ کردیں
گلِ طیبہ میں مل جائوں گلوں میں مل کے کھل جائوں
حیاتِ جادوانی سے مجھے یوں آشنا کردیں
یہ دورِ آزمائش ہے انہیں منظور ہے جب تک
نہ چاہیں تو ابھی وہ ختم دورِ ابتلا کردیں
سگ آوارۂ صحرا سے اُکتا سی گئی دنیا
بچائو اب زمانے کا سگانِ مصطفیٰ کردیں
زمانہ خوگر مے ہے نئی مے کی ضرورت ہے
پلا کر اپنی نظروں سے وہ تجدید نشہ کردیں
مقطع
مجھے کیا فکر ہو اخترؔؔ مرے یاور ہیں وہ یاور
بلائوں کو جو میری خود گرفتارِ بلا کردیں
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
کر دیں
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: کر دیں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
34
Writer
Taj-ush-Shariah Mufti Akhtar Raza Qadri Azhari
Book
Safina-e-Bakhshish