Naat
منقبتِ اعلحٰضرت مجدّدِ دین و ملّت، امام احمد رضا خان بریلوی قُدِّسَ سِرّہ
مائل بہ کرم چشم ضیا بارِ رضا ہے
Naat
تمھارا ہے تمھارا ہے
زمانے میں نشاں کس کا تمھارا ہے تمھارا ہے
Naat
دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے
Naat
بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
سرِّ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبدالقادر
Naat
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
Naat
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
Naat
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
Naat
تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
غازۂ روئے قمر دودِ چراغانِ عرب
Naat
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
کب گوارا ہوئی اﷲ کو رِقّت اُن کی