Naat
خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
گروہِ انبیا میں مصطفےٰ خاص
Naat
چھائے غم کے بادل کالے
میری خبر اے بدرِ دُجیٰ لے
Naat
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف
Naat
اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا
ہند تو ہند عرب میں ہوا شہرہ تیرا
Naat
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں
Naat
انوار کا نزول ہے ‘ آسماں سے کیا؟
محبوب کا عُروج ہے ‘ کون و مکاں سے کیا؟
Naat
سارے عالم میں ہلچل یہ ہونے لگی آج تشریف لاتا ہے ایسا نبی
آرزو مند تھا جس کا ہر اِک نبی، جس کی پھیلی ضیاء آج کی رات ہے
Naat
سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترےذکر کی رفعت کیا کہنا
Naat
ہم رسول مدنی کو نہ خدا جانتے ہیں
اور نہ اللہ تعالیٰ سے جدا جانتے ہیں
Naat
یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا کاشانہ رہے
دونوں عالم میں خیال روئے جانانہ رہے