Naat
بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
سرِّ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبدالقادر
Naat
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
Naat
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
Naat
حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
Naat
لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
Naat
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے
Naat
ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفس
چمک اُٹھے چہِ یوسف کی طرح شانِ قفس
Naat
ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا
Naat
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم
Naat
مخزنِ انوار
وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا