Naat
Tera Jalwa Noor Khuda Ghaus Azam
ترا جلوہ نور خدا غوث اعظم
Urdu Kalam
مطلع
درِ منقبت حضور پر نور پیران پیر دستگیر غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ترا جلوہ نور خدا غوث اعظم
ترا چہرہ ایماں فزا غوث اعظم
مجھے بے گماں دے گما غوث اعظم
نہ پاؤں میں اپنا پتا غوث اعظم
خودی کو مٹا دے خدا سے ملا دے
دے ایسی فنا و بقا غوث اعظم
خودی کو گماؤں تو میں حق کو پاؤں
مجھے جام عرفاں پلا غوث اعظم
خدا ساز آئینۂ حق نما ہے
ترا چہرۂ پر ضیا غوث اعظم
خدا تو نہیں ہے مگر تو خدا سے
جدا بھی نہیں ہے ذرا غوث اعظم
نہ تو خود خدا ہے نہ حق سے جدا ہے
خدا کی ہے تو شان یا غوث اعظم
تو باغ علی کا ہے وہ پھول جس سے
دماغ جہاں بس گیا غوث اعظم
ترا مرتبہ کیوں نہ اعلیٰ ہو مولیٰ
ہے محبوب رب العلا غوث اعظم
ترا رتبہ اللہ اکبر سروں پر
قدم اولیا نے لیا غوث اعظم
ترا دامن پاک تھا مے جو رہزن
بنے ہادی و رہنما غوث اعظم
نہ کیوں مہرباں ہو غلاموں پہ اپنے
کرم کی ہے تو کان یا غوث اعظم
ترے صدقہ جاؤں مری لاج رکھ لے
ترے ہاتھ ہے لاج یا غوث اعظم
پریشان کردے پریشانیوں کو
پریشان دل ہے مرا غوث اعظم
مری کشتی چکرا رہی ہے بھنور میں
مرے نا خدا با خدا غوث اعظم
خدا را سہارا، سہارا خدا را
تلاطم ہے حد سے سوا غوث اعظم
ارے مورے سیاں پڑوں تورے پیّاں
پکڑ موری بیّاں پیا غوث اعظم
خطائیں ہماری جو حد سے سوا ہیں
عطا تیری ان سے سوا غوث اعظم
خطا کاریاں گر چہ حد سے بھی اپنی
سوا ہیں سوا ہیں سوا غوث اعظم
ہماری خطا کو تمہاری عطا سے
بھلا کوئی نسبت بھی یا غوث اعظم
تو رحم و کرم کا ہے بے پایاں دریا
یہ اک فرد عصیاں ہے یا غوث اعظم
یہ اک فرد عصیاں ہے کیا تیرے آگے
اگر لاکھوں سے ہوں سوا غوث اعظم
ترا ایک ہی قطرہ دھو دے گا سارا
ہر اک صفحۂ پر خطا غوث اعظم
تو بیکس کا کس اور بے بس کا بس ہے
تواں نا توانوں کی یا غوث اعظم
مری جان میں جان آئے جو آئے
مرا جان عالم مرا غوث اعظم
مری جان کیا جانِ ایماں ہو تازہ
کہ ہے محی دینِ خدا غوث اعظم
مرا سر تری کفش پا پر تصدق
وہ پا کے تو قابل ہے یا غوث اعظم
جھلک روئے انور کی اپنی دکھا کر
مقطع
تو نوریؔ کو نوری بنا غوث اعظم
سامانِ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Mutaqarib Musamman Salim
Arkaan
فعولن فعولن فعولن فعولن
Radif
غوث اعظم
Zameen
بحر: متقارب مثمن سالم؛ ردیف: غوث اعظم
Sanf
منقبت
Script
Urdu
Total Misra
58
Writer
Mufti-e-Azam Mustafa Raza Noori
Book
Saman-e-Bakhshish