Naat
Umangein Josh Par Aayein Irade Gudgudate Hain
امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
Urdu Kalam
مطلع
امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
جمیلِ قادری شاید حبیب حق بلاتے ہیں
جگا دیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دم بھرمیں
وہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں
انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرش اعظم کا
تری دیوار کے سایہ میں جو بستر جماتے ہیں
مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آکر
غبار رفرش طیبہ اپنی آنکھوں میں لگاتے ہیں
خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا
مدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں
شہ طیبہ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میں
وہ جس کو چاہتے ہیں شاہ دم بھر میں بناتے ہیں
مدینے کی طلب میں جونہیں لیتے ہیں جنت کو
انہیں تشریف لاکر حضرت رضواں سناتے ہیں
تصدق جان عالم اس کریمی و رحیمی کے
گنہ کرتے ہیں ہم وہ اپنی رحمت سے چھپاتے ہیں
وہابی قادیانی کا ندھوی و نیچری سب کی
خبر لینا یہ ہر دم اہلسنت کو ستاتے ہیں
جمیلِ قادری کو دیکھ کر حوروں میں غل ہوگا
یہی ہیں وہ کہ جو نعت حبیب حق سناتے ہیں
مقطع
قبالۂ بخشش
Kalam Details
Bahr
Bahr-e-Hazaj Musamman Salim
Arkaan
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
Radif
ہیں
Zameen
بحر: ہزج مثمن سالم؛ ردیف: ہیں
Sanf
نعت
Script
Urdu
Total Misra
21
Writer
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri
Book
Qabala-e-Bakhshish