ستاروں سے کہو آنکھیں بچھائیں اُن کی آمد ہے
ملائک جن کــــے در پر جھاڑنے کو خاک آتے ہیں
Sitaron Se Kaho Aankhein Bichain Un Ki Aamad Hai
Malaik Jin Ke Dar Par Jhaarne Ko Khaak Aate Hain
متعلقہ اشعار
فرشتوں میــــں ہــــے ہنگامہ رسولِؐ پاک آتے ہیں
کُھلیں رحمت کــــــے دروازے شہِ لولاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi
طلب معشوق کی عاشق نے کی ہے بھیج کر خلعت
لیے جبرئیلؑ ســـــر پــــر آپؐ کی پوشاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi
قدم لیں دوڑ کـر قدسی تو حاصل ہو سر افرازی
شرف جن ســــے زمیں کو تھا سرِ افلاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi
وہ آتے ہیں کہ جن کی نرگسی آنکھوں کے سودائی
پے تسکینِ دل حوروں کــــــو جا کر تاک آتے ہیں
Ameer Meenai Lakhnavi