Naat
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم
Naat
مخزنِ انوار
وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا
Naat
کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
Naat
نبی کے نور سے عالم کو جگمگانا تھا
نبی کی ذات عرشِ استوا بنانا تھا
Naat
سرورِ دنیا و دیں میری مدد فرمائیے
رحمت للّعالمیں میری مدد فرمائیے
Naat
وہ ماہ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مالک ہے سارے عرب و عجم کا
Naat
خدا کے پیارے نبی ہمارے رؤف بھی ہیں رحیم بھی ہیں
رفیع بھی ہیں رسول بھی ہیں مطاع بھی ہیں قسیم بھی ہیں
Naat
یہ دل عرش اعظم بنا چاہتا ہے
گھر اِس میں نبی کا ہوا چاہتا ہے
Naat
وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رسائی ہے
Naat
وہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلف معنبر کا
ہمیں اب دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا