Naat
عشق والے ہیں ہم بس رضا چاہئے
ہاں رضا چاہئے بس رضا چاہئے
Naat
شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
ساقی میں تِرے صدقے مے دے رمضاں آیا
Naat
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
Naat
کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیزگاری واہ واہ
Naat
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے
Naat
ذرّے جھڑ کر تیری پیزاروں کے
تاجِ سر بنتے ہیں سیّاروں کے
Naat
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
Naat
جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کو مشرق سے نکلا آفتاب
Naat
یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کا
کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفےٰ کا