Diwan-e-Salik
دیوانِ سالک
Index / Fehrist
کلام کی فہرستاے خالق و مالک ربّ علیٰ سُبحان اللہ سُبحان اللہ
تُو رب ہے میرا میں بندہ تیرا سُبحان اللہ سُبحان اللہ
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا
لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا
خوفِ گنہ میں مجرم ہے آب آب کیسا
جب رب ہے مصطفیٰ کا پھر اضطراب کیسا
نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھا
شکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا
ہوتی رہِ مدینہ میرا غبار ہوتا
جن کا لقب ہے صلِّ علیٰ محمدٍﷺ
ان سے ہمیں خدا ملا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ
یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوۃ اللہ علیک
بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں
وہ بشر ہے دین سے بے خبر جو رہِ نبی ﷺ میں گما نہیں
تم ہی ہو چین اور دلِ بے قرار میں
تم ہی تو ایک آس ہو قلبِ گنہگار میں
ہے جس کی ساری گفتگو وحیِ خدا یہی تو ہیں
حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نما یہی تو ہیں
دل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو تیرا شیدائی
اور آنکھ وہ ہی ہے جو ہو تیری تما شائی
وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رسائی ہے
بشر وہ ہے جس کو تیری جستجو ہے
وہی لب ہے جس پر تیری گفتگو ہے
جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیﷺ میرا دل انہیں پہ نثار ہے
میرے قلب میں ہیں وہ جلوہ گرکہ مدینہ جن کا دیار ہے
منظوم تفسیر
جوت سے ان کی جگ اجیالا
اے صبا تیرا گزر ہو جو مدینہ میں کبھی
جانا اس گنبدِ خضرا میں کہ ہیں جس میں نبیﷺ
معروضہ ببارگاہ امیر المؤمنین عمر ابن خطاب
بہارِ باغِ ایماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں
معروضہ ببارگاہ حضرت ذوالنورین امام المسلمین عثمان غنی
خلق پہ لطفِ خدا حضرتِ عثمان ہیں
ببارگاہِ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب
بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ
معروضہ ببارگاہ ام المؤمنین محبوبۂ محبوب رب العالمین عائشہ صدیقہ
اس مبارک ماں پہ صدقہ کیوں نہ ہو سب اہل دین
معروضہ ببارگاہِ جناب آمنہ بی بی
صدقہ تم پر ہوں دل و جان آمنہ
معروضۂ ببارگاہ شہزادیِ کونین ام الحسنین خاتون جنت
ہے رتبہ اس لئے کونین میں عصمت کا عفت کا
معروضہ ببارگاہ سید الشہدا امام الاولیاہ حضرت حسین
سر وہ ہے جو کٹے اسلام کی خدمت کیلئے
ببارگاہِ سرکار بغداد
ہو گیا یا غوث میں برباد ہوتے آپ کے
قصیدہ
ہیں میرے پیر لاثانی محی الدین جیلانی
دعا
نہ مجھ کو خدا ، مال و زر چاہیئے
کہاں ہو یا رسول اللہﷺ کہاں ہو؟
مری آنکھوں سےکیوں ایسے نہاں ہو
درشانِ غوث پاک
غوثِ اعظم دستگیرِ بے کَساں