Safina-e-Bakhshish
سفینہ بخشش
Index / Fehrist
کلام کی فہرستداغِ فرقتِ طیبہ قلب مضمحل جاتا
کاش گنبد خضریٰ دیکھنے کو مل جاتا
آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات
فضلِ نوشاہِ دو عالم کے بیانات کی رات
وہ بڑھتا سایۂ رحمت چلا زلف معنبر کا
ہمیں اب دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کا
ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا
پریہ ناز ان کے بندے کا دیکھیں گے سب تھام کر ان کا دامن مچل جائےگا
بوالہوس سُن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں
ان کے در کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں
عرش پر ہیں اُن کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں
گہہ بہ شکل بدر ہیں گہہ مہر انور ایڑیاں
اپنے در پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو
میری بگڑی جو بناؤ تو بہت اچھا ہو
وہ چھائی گھٹا بادہ بارِ مدینہ
پیئے جھوم کر جاں نثارِ مدینہ
صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے
امنگ شوق کی اٹھتی ہے قلب مردہ سے
ہمارے باغِ ارماں میں بہارِ بے خزاں آئے
کبھی جو اس طرف خندہ وہ جانِ گلستاں آئے
دور اے دل رہیں مدینے سے
موت بہتر ہے ایسے جینے سے
منقبت شریف سیدنا امام عالی مقام حضرت حسین
شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے
درِ احمد پہ اب میری جبیں ہے
مجھے کچھ فکر دو عالم نہیں ہے
سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
لُٹا اے چشمِ تر گوھر مدینہ آنے والا ہے
پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد
اہل صفا کے میر ہیں یا غوث المدد
نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے
وہ خلوت خانۂ مولیٰ ہے وہ دل رشک جنت ہے
شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے
مرے دل کو میسر اُن کا غم ہے
ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے
جو فنا نہ ہوگی ایسی اسے زندگی ملی
فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے
میں مدینے کو چلوں وہ دن پھر آئے خیر سے
منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلف دوتا کردیں
مصطفائے ذاتِ یکتا آپ ہیں
یک نے جس کو یک بنایا آپ ہیں
تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں
جانب طیبہ سب کے سفینے چلے