Saman-e-Bakhshish
سامانِ بخشش
Index / Fehrist
کلام کی فہرستاللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ
قلب کو اس کی رویت کی ہے آرزو
مخزنِ انوار
وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا
نعت شہ والا
پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا
کن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو
کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا
چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہم زنگار کا
مقبول دعا کرنا منظور ثنا کرنا
مدحت کا صلہ دینا مقبول ثنا کرنا
کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا
کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا
بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
چشم و دل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
آہ پورا مرے دل کا کبھی ارماں ہوگا
کبھی دل جلوہ گہ سرور خوباں ہوگا
میرا گھر غیرت خورشیدِ درخشاں ہوگا
خیر سے جان قمر جب کبھی مہماں ہوگا
ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب
ہیں ستارے انبیا مہر عجم ماہِ عرب
ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہر عرب
دے دو مرے دل کو جلا ماہِ عجم مہر عرب
ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
یاد بھی اب تو نہیں رنج و الم کی صورت
سلام
بہ سرکار خیر الانام علیہ وعلیٰ آلٰہ التحیۃ والسلام
صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ
اعلیٰ سے اعلیٰ رفعت والے
ماہ طیبہ نیر بطحا صلی اللہ علیک وسلم
تیرے دم سے عالم چمکا صلی اللہ علیک وسلم
اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے سرور عالی مقام
اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے رہبر جملہ انام
درِ منقبت حضور پر نور پیران پیر دستگیر غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ترا جلوہ نور خدا غوث اعظم
کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظم
مٹا قلب کے بے کلی غوث اعظم
تجلی نور قِدَم غوث اعظم
ضیائے سراج الظلم غوث اعظم
جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں
کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
حبیب خدا نظارا کروں میں
دل و جان ان پر نثار کروں میں
شاہ والا مجھے طیبہ بلا لو
طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلا لو
بہار جانفزا تم ہو، نسیم داستاں تم ہو
بہار باغ رضواں تم سے ہے زیب جناں تم ہو
کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو
دونوں عارض ہیں ضحیٰ لیل کے پارے گیسو
کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شان خدا تم ہو
تو شمع رسالت ہے عالم ترا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ
کرم جو آپ کا اے سید ابرار ہو جائے
تو ہر بدکار بندہ دم میں نیکو کار ہو جائے
پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے
مریض عشق کی لائی دوا مدینے سے
حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا ورا ہے
دلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے
ترا درد الفت ہی دل کی دوا ہے
رباعیات
کفش پا ان کی رکھوں سر پہ تو پاؤں عزت