Jazbat-e-Burhan
جذباتِ برہان
Index / Fehrist
کلام کی فہرستبحرِ سخاوت صلّی اللہ
درجِ صداقت صلّی اللہ
سرکارِ دو عالم شہہِ بطحا ہے ہمارا
مطلوبِ خدا سیّد والا ہے ہمارا
زباں پہ اس لیے صلِّ علیٰ بے اختیار آیا
کہ دل میں نام پاک سیّدِ عالی وقار آیا
انوار کا نزول ہے ‘ آسماں سے کیا؟
محبوب کا عُروج ہے ‘ کون و مکاں سے کیا؟
نبی کے نور سے عالم کو جگمگانا تھا
نبی کی ذات عرشِ استوا بنانا تھا
اے نقشِ نعلِ پاکِ نبیﷺ، یہ تیری وجاہت کیا کہنا
جس نعل کی تُوتصویر بنا، اُس نعل کی عزت کیا کہنا
ہر مسلمان کو لازم ہے مسلماں ہونا
جانِ اسلام ہے سرکار پہ ایماں ہونا
کلام اللہ شاہد ہے نبی کی شانِ رفعت پر
مدارِ عالم امکان ہے بس اُن کی رحمت پر
نوُرِ حُضور سے بنے، اَرض و فلک الگ الگ
جِنّ و بشر جُدا جُدا، حور و مَلَک الگ الگ
تم سیّدِ کونین، شہہِ ہر دوسَرا ہو، اے سرورِ عالم
طالب ہو خدا کے، تمہیں مطلوبِ خدا ہو، اے سرورِ عالم
سُنیں گے وہ، بپا ہے شورِ داروگیر امت میں
یہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں
اُلفتِ سرکار کا جس دل میں پنہاں راز ہو
بے اثر اس پہ ہے سب کچھ، سوز ہو یا ساز ہو
کرم ہے تمہارا عنایت تمہاری
دو عالم پہ بالا ہے امّت تمہاری
روضۂ اطہر کا ارماں کل بھی تھا اور آج بھی
عاصیوں بخشش کا ساماں، کل بھی تھا اور آج بھی
کیسی عظمت ہے محمدﷺ کی خدا کے سامنے
ہیچ ہیں سب عظمتیں خیر الوریٰ کے سامنے
آقا تمہاری ذات کا دھیان رہ نہ جائے
مدّت کا ایک دل میں ارماں رہ نہ جائے
وہ سرکار عالی مقام آرہا ہے
شہنشاہِ ذی اقتدار آرہا ہے
تِرا نور عالم میں جلوہ نُما ہے
اسی سے زمین و فلک منجلا ہے
اے سر و گلستانِ عالم، لاریب تو جانِ عالم ہے
اے بزمِ عقیدت کے دولہا تجھ سے ہی شانِ عالم ہے
سرکار کرم، آقائے نعم جو آپ کا بندہ ہوجائے
دنیا کے جو بندہ پرور ہیں، وہ ان کا آقا ہو جائے
سارے عالم میں ہلچل یہ ہونے لگی آج تشریف لاتا ہے ایسا نبی
آرزو مند تھا جس کا ہر اِک نبی، جس کی پھیلی ضیاء آج کی رات ہے
سرورِ دنیا و دیں میری مدد فرمائیے
رحمت للّعالمیں میری مدد فرمائیے
حضور سیّد خیر الوریٰ سلام علیک
بارگاہِ شفیع الوریٰ سلام علیک
یَانَبِیْ سَلَامٌ عَلَیْکَ، یَارَسُولْ سَلَامٌ عَلَیْکَ
یَاحَبِیبْ سَلَامٌ عَلَیْکَ، صَلَوٰۃُ اللہِ عَلَیْکَ
غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک
شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک
مظہر سرِّ وحدت پہ لاکھوں سلام
منبعِ ہر فضیلت پہ لاکھوں سلام
سیّدی غوث اعظم، سلامٌ علیک
میرے آقائے اکرم، سلامٌ علیک
بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ
زباں پراس لئے صلّ علیٰ بے اختیار آیا
کہ دل میں نام پاک سیّدِعالی وقار آیا
سرکار کرم کے صدقہ میں خواجہ کا روضہ دیکھ لیا
خواجہ کی غریب نوازی کا دربار میں نقشہ دیکھ لیا
خدا ہے تمہارا ولی غوثِ اعظم
ہوئے تم خدا کے ولی غوثِ اعظم
غوث کے در کو چھوڑ کر غیر کے در پہ جائیں کیوں
ٹکڑوں پہ جن کے ہے پلا اُن کا دیانہ کھائے کیوں
قبول بندۂ درکا سلام کرلینا
سگانِ طیبہ میں تحریر نام کرلینا
More Books
Qadam Qadam Sajde
قدم قدم سجدے
Khalid Mahmood Khalid Naqshbandi
Arsh-e-Naaz
عرشِ ناز
Pir Syed Naseeruddin Naseer
Ghair Matboo Kalam – Dr. Muhammad Hussain Mushahid Razvi
غیر مطبوعہ کلام — ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
Dr. Muhammad Hussain Mushahid Razvi
Qabala-e-Bakhshish
قبالئہ بخشش
Maulana Jameel-ur-Rahman Qadri