Naat Academy — Sitemap
Browse every section of the site. All content is organized by type for quick discovery.
Pages
Aruuz Articles
View archive →Ashaar
- ’’سفرِ مدینہ طیبہ کی آرزو میں‘‘
- (عرض بارگاہ غوثیہ) غوث اعظم مِرے ہر دُکھ
- آؤ نبیﷺ کی بات کریں
- آئی بہارِ زیست مقدّر سَنبھل گئے
- آئینہ منفعل ترے جلوے کے سامنے
- آئینہ ہا حیرانِ تو شمس و قمر جُویانِ تو
- آئیے تسکینِ جانِ زار کی باتیں کریں
- آپ سے آپ سے
- آتی ہے باد صبح جو سرور کے سامنے
- آتے رہے انبیا کَمَا قِیْلَ لَھُمْ
- آج عیدِ عاشِقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ
- آج کچھ حد سے فزوں سوز نہانی ہے حضورﷺ
- آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات
- آجاؤ رحمتوں کے خزینے کے سامنے
- آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتا ہے قِیاس
- آزردہ آب دیدہ ہوں میں اُن کی چاہ میں
- آسمانِ مصطفی کے چاند تاروں پر دُرود!
- آغوشِ تصوّر میں مدینے کی زمیں ہے
- آغوش میں رحمت کی پہنچوں گر ان کا اشارہ ہوجائے
- آفتاب اُن کا ہی چمکے گا جب اَوروں کے چراغ
- آقا تمہاری ذات کا دھیان رہ نہ جائے
- آقا کا نام اونچا
- آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گِریاں آئے ہیں
- آنکھوں کا تارا نام محمد
- آنکھوں میں تصور ہے مدینے کی زمیں کا
- آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
- آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
- آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
- آہ پورا مرے دل کا کبھی ارماں ہوگا
- آہ یا غَوثاہ یا غَیثاہ یا امداد کن
- آہ یا غَوثاہ یا غَیثاہ یا امداد کن
- آیا لبوں پہ ذِکر جو خیر الانام کا
- اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی
- اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامانِ عرب
- اب کہاں حشر میں اندیشہء رُسوائی ہے
- اب میری نگاہوں میں تو جچتا نہیں کوئی
- ابتدا و انتہائے مصطفیٰ
- ابنِ زَہر اسے ترے دل میں ہیں یہ زہر بھرے
- ابھی ابھی
- آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے
- اپنی رحمت کی طرف دیکھیں حضور
- اپنی سَتّاری کا یارب واسِطہ
- اپنے در پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو
- اپنے کُوچہ سے نِکالا تو نہ دو
- اپنے مہمانوں کا صَدقہ ایک بُوند
- اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
- اتنی عرْضِ آخِری کہہ دو کوئی
- اتنے اوصاف ہیں محمدﷺ کے
- اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے
- اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے
- اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
- اُٹھی نظر تو روئے نبی پر ٹھہر گئی
- اچھا لگتا ہے یا سب سے اچھا لگتا ہے
- احسان و کرم ہم پہ وہ کیا کیا نہیں کرتا
- احمد کی رِضا خالقِ عالم کی رِضا ہے
- ادب سے نام ِ محمد کو چوم لیتا ہوں
- اَدْرِکَاْسًا ونَاوْلِھَا
- اِدھر سے اُدھر سے
- اُدھر کعبہ اِدھر روضہ
- ادھر نہیں یا اُدھر نہیں ہے نبیﷺ کا جلوہ کدھر نہیں ہے
- ارمان نکلتے ہیں دل کے آقاﷺ کی زیارت ہوتی ہے
- ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر
- ازنگاہ مصطفیﷺ
- اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول
- اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالِف تیرے
- اس دیارِ قدس میں لازم ہے اے دل احتیاط
- اُس رُخِ پاک کا جس بزم میں چرچا ہوگا
- اس روئے والضحیٰ کی صفا کچھ نہ پوچھئے
- اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں
- اُس کو طوفان بھی کنارا ہے
- اس کو کب ہوگل و گلزار عزیز
- اس کی قسمت پر فدافرماں روائی ہو گئی
- اِس مُردہ دل کو مژدہ حیاتِ ابد کا دُوں
- اس نعت میں اسماء رسول اکرمﷺ ۱۳۰ سے زیادہ مذکور ہیں
- آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- اسے ڈھونڈتے آئیں گے خود کنارے
- اشارہ میں کیا جس نے قمر چاک
- اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے سرور عالی مقام
- اعلیٰ حضرت کے ایک مصرعِ اولیٰ “ماہِ مدینہ اپنی تجلی عطا کرے” پر سعادتِ نعت :
- اعمال کے دَامن میں اپنے تقدیس کی دولت لاتے ہیں
- افلاک سے اونچا ہے ایوان محمد کا
- اقطاب کی زمیں ہے
- اک ہے اُدھر اک ہے اِدھر
- اُگال اس کا اُدھار اَبرار کا ہو
- اگر چشمِ بصیرت ہو تو ظاہر ہے یہ قرآں سے
- اگر ذوقِ عمل کو آج امیرِ کارواں کرلیں
- اگر قسِمت سے میں اُن کی گلی میں خاک ہو جاتا
- اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوں
- الَا یَا اَیُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاسًا وَّنَا وِلْھَا
- اَلَآ یٰٓاَیُّھَاالسَّاقِیْٓ اَدِرْ کَاسًا وَّنَاوِلْھَا
- الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
- الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا
- السلام انجا نم در و رسالت السلام
- اَلسَّلَام اے بطفیلِ تو بہارِ عالَم
- السلام اے خسروِ دنیا و دیں
- السلام اے رحمت العالمینﷺ
- السلام اے شہ لولاک حبیب یزدان
- السّلام اے نسبتِ تو تاجِ عشق
- السلام اے نعمت حق رحمت رب جلیلﷺ
- السلام اے یار غار رحمت للعالمینﷺ
- اُلفتِ سرکار کا جس دل میں پنہاں راز ہو
- ﷲ ﷲ شہِ کونین جلالت تیری
- ﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- اللہ اللہ انتہائے احترامِ مصطفیٰﷺ
- اللہ اللہ بہارِ چَمَنِستانِ عرب
- اللہ اللہ رے اعجازِ کفِ پائے حضورﷺ
- اللہ اللہ کے نبی سے
- اللہ اللہ کے نبی سے
- اللہ اللہ کے نبی سے
- اللہ اللہ یہ گنہگار پہ شفقت تیری
- اللہ رے تیرے جسمِ منوّر کی تابِشیں
- اللہ رے تیرے در و دیوار مدینہ
- اللہ کی رحمت کی ردا غوث پیا ہو
- اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ، اللّٰہ ھُوْ
- الہٰی روضۂ خیرالبشر پر میں اگر جاؤں
- امام الانبیا تم ہو، رسولِ مجتبیٰﷺ تم ہو
- اُمّتان و سیاہ کاریہا
- امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
- امید بوسہ پائے نبی ﷺ میں
- ان پہ سب کچھ نثار کرتے ہیں
- ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت
- ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنی
- اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں
- اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں
- اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
- ان کی نگاہِ ناز جدھر ہمنوا گئی
- اُن کے آگے دعویِ ہستی رضاؔ
- اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر
- اُن کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے
- اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے
- انبیا کو بھی اجل آنی ہے
- اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے
- اَنْتَ فِیْہِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں
- اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا
- اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- انوار کا نزول ہے ‘ آسماں سے کیا؟
- اہل جہاں کو درد کا چارا نہیں نصیب
- اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
- اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں
- اہلبیت احمد مختار کی کیا شان ہے
- اُودِی اُودِی بَدلیاں گِھرنے لگیں
- اُودِی اُودِی بَدلیاں گِھرنے لگیں
- اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار
- اور تو کچھ بھی نہیں حسنِ عمل میرے پاس
- اور محبوب ہیں ، ہاں پر سبھی یکساں تو نہیں
- اوّلیں آخریں ترے صدقے
- ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
- ایک ذرّے کوبھی خورشید بناتے دیکھا
- ایمان ہے قالِ مُصطَفائی
- ایمان ہے قالِ مصطفائی
- ایمان ہے قالِ مُصطَفائی
- اَیُّھَا الْعُشَّاق شیدائے جنابِ مصطفیٰﷺ
- اے شہنشاہِ مدینہ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
- اے باد صبا رک جا دم بھر سن لے تو میری فریاد و فغاں
- اے بہارِ زندگی بخشِ مدینہ مرحبا
- اے جان جہاں تجھ کو ہے کچھ اس کی خبر بھی
- اے جانِ مَن جانانِ من ہم درد ہم دَرمانِ من
- اے جذبۂ محبت کچھ جذبِ دل دکھا دے
- اے خالق و مالک ربّ علیٰ سُبحان اللہ سُبحان اللہ
- اے خدا کے حبیبﷺ عرش مقام
- اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی
- اے دل! مدام بندۂ آں شہریار باش
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
- اے رضاؔ چیست غم ار جملہ جہاں دُشمنِ تُست
- اے رضاؔ خود صاحبِ قرآن ہے مدّاحِ حضور
- اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا
- اے سر و گلستانِ عالم، لاریب تو جانِ عالم ہے
- اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر
- اے شافعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبر
- اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر
- اے شافعِ تر دامناں وَے چارۂ دردِ نہاں
- اے شافعِ تردامناں وَے چارۂ دردِ نِہاں
- اے شکیب جان مضطر رحمۃ للعا لمین
- اے شہنشاہ مدینہ الصلوٰۃ والسلام
- اے صبا تیرا گزر ہو جو مدینہ میں کبھی
- اے طبا شیر سحر عکس رخ تاباں کو
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- اے مرہمِ زخمِ جگر یاقوت لب والا گُہر
- اے مَسْنَدَت عرشِ بَریں وَے خادمَت رُوحِ اَمیں
- اے مُقْتَدا شمعِ ہُدیٰ نورِ خدا ظلمت زِدا
- اے نبی پیار سے جس نے تمہیں دیکھا ہوگا
- اے نقشِ نعلِ پاکِ نبیﷺ، یہ تیری وجاہت کیا کہنا
- با عطا تم شاہ تم مختار تم
- باخبر سرِ حقیقت سے وہ مستانے ہیں
- بادِ صبا جُویانِ تو باغِ خدا از آنِ تو
- بادلوں سے کہیں رُکتی ہے کڑکتی بجلی
- بار بار آپ جو سرکار بلاتے جاتے
- بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
- بازِ اَ شْہَب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
- باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
- باغ دو عالم دم سے تمہارےہے گلزار رسول اللہ
- باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عرب
- باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- بال، پر والے گئے اُڑ کر مدینے کے قریب
- ببارگاہِ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب
- ببارگاہِ سرکار بغداد
- بت شکن آیا یہ کہہ کر سر کے بل بت گر گئے
- بحرِ سخاوت صلّی اللہ
- بحمداللہ عبداللہ کا نور نظر آیا
- بخارا و عراق و چِشت و اَجْمیر
- بخت خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
- بخدا خدا سے ہے وہ جدا جو حبیبِ حق پہ فدا نہیں
- بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث
- بدن تھا آپ کا کان تجلی
- بروزِ جزا، یا رسولِ خدا
- بزم ازل میں حُسن بہار چمن میں ہے
- بزمِ قدسی میں ہے یادِ لب جاں بخش حضور
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں
- بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں
- بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں
- بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
- بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
- بشر سے غیر ممکن ہے ثنا حضرت محمد کی
- بشر وہ ہے جس کو تیری جستجو ہے
- بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریم
- بَکارِ خَویْش حَیرانَم اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ
- بکار خویش حیرانم اغثنی یا رسول اللہ
- بَکارِ خَویْش حَیرانَم اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ
- بلبل و نیلپر و کبک بنو پروانو!
- بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ
- بلندیوں پہ ہمارا نصیب آ پہنچا
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
- بہ فطرتیکہ ادب گاہِ جوہرِ نَسَبی ست
- بہار ِ خُلد ہے روئے محمدﷺ
- بہار ِ ذِکر احمد سے جو بیگانہ نہیں ہوتا
- بہار جانفزا تم ہو، نسیم داستاں تم ہو
- بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی
- بہاروں کا مرکز دیارِ مدینہ نہ کیوں جنّتیں اس پہ قربان جائیں
- بہجت اس سر کی ہے جو ’’ بَہْجَۃُ الْاَسْرَار‘‘ میں ہے
- بہرِ خدا مرہم بنہ از کارِ مَن بِکُشا گِرہ
- بہرِ دیدارِ مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آجائیے
- بہشتِ کوچۂ نظر ہے بہارِ نظر
- بوالہوس سُن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں
- بولو بولو صلی اللہ
- بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- بیاں ہو کس سے کمال محمد عربی
- بے داغ لالہ یا قمر بے کلف کہوں
- بے سہاروں کا کوئی سہارا نہیں
- بے کسوں سے ہے جنہیں پیار وہی آئے ہیں
- بے نیاز ِ دو جہاں ہوں آپ کا ہونے کے بعد
- پائے جبریل نے سرکار سے کیا کیا القاب
- پائے کُوباں پُل سے گزریں گے تِری آواز پر
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زَار ہم
- پاشکستہ تا درِ خیرالانامﷺ آ ہی گیا
- پانی پانی جوشِش عصیاں ہے ساحل کے قریب
- پرُ نور ہے زمانہ صبح شبِ ولادت
- پردہ رخ انور سے جو اٹھا شبِ معراج
- پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- پشیماں نہ ہوں شرمساروں سے کہہ دو
- پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- پہنچوں اگر میں روضۂ انوا ر کے سامنے
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں
- پیار سے تم کو فرشتوں نے جگایا ہوگا
- پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے
- پیدا ہوئے خیر الوریٰ صلو علیہ و آلہٖ
- پیدا ہوئے وقتِ سحر حضرت محمد مصطفی ٰﷺ
- پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
- پیکر نور کی تنویر کے صدقے جاؤں
- تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
- تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
- تابش زندگی مرکزِ آگہی تیری کیا شان ہے خواجۂ خواجگاں
- تاجِ فرقِ عرفا کِس کے قدم کو کہئے!
- تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا
- تجلی نور قِدَم غوث اعظم
- تجمل شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا
- تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
- تجھ سے اور دَہر کے اقطاب سے نسبت کیسی
- تخت شاہی نہ سیم و گہر چاہیے
- تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوث
- تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- تِرا مجنوں تِرا صَحرا تِرا نَجد
- تِرا نور عالم میں جلوہ نُما ہے
- تِری جاگیر میں ہے شَرق تا غَرب
- تِری شمع دِل آرا کی تَب و تاب
- تری مدح خواں ہر زباں غوث اعظم
- ترے جد کی ہے بارہویں غوث اعظم
- ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- ترے کرم کا خدائے مجیب کیا کہنا
- تسلئ دلِ ناشاد فرمائی نہیں جاتی
- تشنۂ نہرِ جناں ہر عربی و عجمی!
- تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سرور کا
- تضمین
- تضمین بر سلام رضا
- تضمین بر نعتِ استاد زمن حضرتِ علامہ حسن رضا خاں حسؔن بریلوی برادرِ خورد اعلٰحضرت فاضلِ بریلوی قدس سرّہ و تلمیذِ بلبلِ ہند، دبیر الدولہ فصیح الملک جناب داغؔ دہلوی مرحوم
- تضمین بر نعت حضرت لسان الحسّان علّامہ ضیاء القادری بدایونی
- تضمین برسلام مولانا حسن رضا خاں بریلوی
- تضمین برکلام امام اہلسنت اعلی حضرت قدس سرہ
- تضمین برکلام حضرت مولانا عبد الرحمنٰ جامؔی صاحبِ نفحات الانس
- تضمین برنعتِ اعلٰحضرت امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ
- تضمین برنعتِ اعلٰحضرت، مجدّدِ مأتہ حاضرہ، امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ
- تضمین برنعتِ برادرِ معظّم حضرت مولانا مفتی سید ریاض الحسن نیّر حامدی رضوی جیلانی جود ھپوری
- تعیّنات کی حد میں نہیں مقام ِ حضور
- تکیں گی حسرتیں حیرت سے منہ ہم ناسزاؤں کا
- تم پر نثار ہونے کو آئی ھے چاندنی
- تم پہ سَلام ِ کِرد گار
- تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں
- تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
- تم سیّدِ کونین، شہہِ ہر دوسَرا ہو، اے سرورِ عالم
- تُم کرم سے مُشْترَی ہر عیب کے
- تم کو یدِ قدرت نے کیا خوب سنوارا ہے
- تم نقشِ تمنّائے قلمدانِ رضا ہو
- تم نے تو لاکھوں کو جانیں پھیر دِیں
- تم ہو حسرت نکالنے والے
- تم ہی ہو چین اور دلِ بے قرار میں
- تمام دنیا یہاں سلامت تمام عالم وہاں سلامت
- تمھارا ہے تمھارا ہے
- تمھارے ذرّے کے پرتو ستار ہائے فلک
- تمہارا نام لبوں پر ہے دل کو راحت ہے
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- تمہاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر
- تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک
- تمہیں تو ہو خاتم پیمبرﷺ تمہیں تو ہو شانِ حق کے مظہر
- تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یا رسول اللہ
- تھک کے بیٹھے تو درِ دِل پہ تَمَنَّائی دوست
- تھی جن کے نام سے ہلچل جہاں کے تاجداروں میں
- تو اپنے وقت کا صدّیقِ اکبر
- تو حدودِ فکر سے ماوریٰ
- تو شمع رسالت ہے عالم ترا پروانہ
- تو کُجا مَنْ کُجا ( تو کہاں اور میں کہاں)
- تُو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
- تو نوازے اگر اے ذَوقِ نظارا مجھ کو
- تُو ہے نوشاہ بَراتی ہے یہ سارا گلزار
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- تیرا کہنا کیا ہے
- تیرا میرا رشتہ
- تیرہ بختوں کی ہوگئی معراج
- تیری چوکھٹ تک رسائی گر شہا ہو جائے گی
- تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم
- تیرے تو وَصف عیب تناہی سے ہیں بَری
- تیرے خیال نے بخشا ہے یہ قرینہ بھی
- تیرے کرم کے احاطے میں دونوں عالم ہیں
- ٹوٹ جائیں گے گنہگاروں کے فوراً قید و بند
- جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
- جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
- جاکے صبا تو کوئے محمد ﷺ
- جاکے لا اے عشق بے پایاں قلمدانِ حبیبﷺ
- جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
- جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے
- جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
- جان ہے عشقِ مصطفٰے روز فَزوں کرے خدا
- جان و دل سے تم پہ میری جان قرباں غوث پاک
- جان و دِل سے ہوں میں فدائے حضور
- جان و دل یارب ہو قربانِ حبیب کبریا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- جب ان کی چشمِ کرم مائل ِ کرم ہوگی
- جب تلک باہم ہو، یا رب! جسم و جاں کا ارتباط
- جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں گے
- جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں گے
- جب کبھی جانبِ سرکارِ مدینہ دیکھا
- جب محمّدﷺ کا لب پہ نام آیا
- جبریل امیں شان بشر دیکھ رہے ہیں
- جبینِ شوق ان کے آستانے پر جھکی ہوگی
- جبین شوق کو جب مصطفیٰﷺ کے در سے ٹکرایا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- جدھر کو رونق افزا وہ بہار باغ رضوان ہو
- جس بھکاری کو کیا آپ کی رحمت نے نہال
- جس سے تم روٹھو وہ برگشتۂ دنیا ہو جائے
- جس سے دونوں جہاں جگمگانے لگے گود میں آمنہ کی وہ نور آگیا
- جس طرف ان کی نظر ہو جائے گی
- جس کو خدا نے واصفِ خیرالوریٰ کیا
- جس کو عشقِ سیّد کون و مکاں حاصل ہوا
- جس کو کچھ حب مصطفی ہی نہیں
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- جس کو للکار دے آتا ہو تو اُلٹا پھر جائے
- جس کے باعث ہوئے جہان روشن
- جس نے مشکل میں کبھی تم کو پکارا ہوگا
- جس نے نبی کے عشق کو ایما ں بنا لیا
- جسے عرشِ دوم کہتے ہیں اَفلاک
- جسے مانگے نہ پائیں جاہ والے
- جگمگاتی ہے زمانےکی فضا کون آیا
- جلوے ہی جلوے نگاہوں میں سمٹ آتے ہیں
- جمال ِ ذات کا آئینہ تیری صورتِ ہے
- جمالِ نور کی محفل سے پروانہ نہ جائے گا
- جن کا لقب ہے صلِّ علیٰ محمدٍﷺ
- جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
- جناب صاحب لولاک کے تو لا کا
- جنابِ فخرِ عالم سیّدِ سرور ہوئے پیدا
- جنابِ مصطفےٰ ہوں جس سے نا خوش
- جنم جنم کے جو پیاسے تھے جام پینے چلے
- جنہیں خلق کہتی ہے مصطفیﷺ میرا دل انہیں پہ نثار ہے
- جہان آب و گل میں کون یہ با کرّوفر آیا
- جہاں جاؤں وہاں نور ہدایت ہو تو کیا کہنا
- جہاں مل سکے نہ گماں کو رَہ وہ نبیﷺ کا حسن و کمال ہے
- جہاں میں تھا جہاں میں تھا
- جو ان کے نقشِ قدم پر ہیں سرجھکائے ہوئے
- جو پناہِ سیّدِ کون و مکاں میں آ گیا
- جو تیرا طفل ہے کامل ہے یا غوث
- جو تیرا طِفْل ہے، کامل ہے یا غوث
- جو تیرا طِفْل ہے، کامل ہے یا غوث
- جو تیرا نام لے ذاکر ہے پیارے
- جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں
- جو خوش نصیب مدینے بلائے جاتے ہیں
- جو داغِ عشقِ شہ دیں ہیں دل پہ کھائےہوئے
- جو سر دے کر تِرا سودا خریدے
- جو غمگسارِ غریباں وہ چشم ِ ناز نہ ہو
- جو قَرنوں سَیر میں عارف نہ پائیں
- جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حُسن کیوں کر آئے
- جو نسبت شہِ کون و مکاں پہ ہیں نازاں
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
- جو ہیں حبیبِ خالقﷺ بر تر وہﷺ آگئے
- جو ہیں حبیبِ خالقﷺ بر تر وہﷺ آگئے
- جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست
- جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائیِ دوست
- جوش میں آگئی رحمت کبریا ہم غریبوں کے حاجت روا آگئے
- جوشِ وحشت نے کیا بادیہ پیما مجھ کو
- جوشِش اَبر سے خونِ ُگلِ فردوس کرے
- جووَلی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
- چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا
- چاندنی چھٹکی ہے اُن کے نور کی
- چرچے ہوتے ہیں یہ کمھلائے ہوئے پھولوں میں
- چشم پوشی و کرم شانِ شُما
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- چلو دیکھ لیں وہ حقیقتیں جنہیں دیکھنا بھی مثال ہے
- چلو مدینے چلو مدینے قدم قدم سے ملا ملا کر
- چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
- چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
- چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
- چمکا جہاں میں جب مہِ اقبالِ مصطفی ٰﷺ
- چمکتے چمکتے
- چمن خُلدِ بریں کا عکس ہے روئے محمدﷺ کا
- چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو
- چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو
- چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
- چھائے غم کے بادل کالے
- چہرے بتارہے ہیں یہ بارہ امام کے
- چودھویں کا چاند ہے روئے حبیب
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- حبیبِ حق پہ دِل و جاں سے جو نثار ہوئے
- حبیب خدا عرش پر جانے والے
- حبیب خدا نظارا کروں میں
- حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
- حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجیے
- حرماں نصیب ہوں تجھے امید گہ کہوں
- حُسن ِ رسول پاک کی تنویر دیکھئے
- حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
- حسن خورشید نہ مہتاب کا جلوہ دیکھو
- حُسنِ یوسُف پہ کٹیں مِصْر میں اَنگُشتِ زَناں
- حشر تک ڈالیں گے ہم پَیدائشِ مولیٰ کی دُھوم
- حصّۂ درود و سلام
- حضرات خلفائے راشیدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں مصنف مدظلہ کا مسلک
- حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری خواجہ خواجہ میرے خواجہ
- حضور سیّد خیر الوریٰ سلام علیک
- حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
- حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
- حق کے محبوب کی ہم مدح و ثنا کرتے ہیں
- حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
- حقیقی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے مدفن سے
- حُکْم نافِذ ہے تِرا خامَہ تِرا سیف تِری
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- حُور سے کیا کہیں موسیٰ سے مگر عرض کریں
- خاتم الانبیا ہوئے پیدا
- خاتم پیغمبران فریاد ہے
- خاتم ہر صفتﷺ
- خاص رونق ہے سرِ عرش علیٰ آج کی رات
- خاصِ محبوبِ خدا ختمِ رسالت پر سلام
- خاک اُفتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- خاکِ مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا
- خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
- خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
- خاکِ وطن سے دور بلا لیجئے مجھے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- خدا کے پیارے نبی ہمارے رؤف بھی ہیں رحیم بھی ہیں
- خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا
- خدا نے اس قدر اونچا کیا پایہ محمد کا
- خدا نے جس کے سرپرتاج رکھا اپنی رحمت کا
- خدا ہے تمہارا ولی غوثِ اعظم
- خدا وند جہاں جب خود ہےپیارا تیری صورت کا
- خدائی کے لائق سردار، یا رب!
- خدائے پاک بھی خود جن پہ بھیجتا ہے درود
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا