Naat Academy — Sitemap
Browse every section of the site. All content is organized by type for quick discovery.
Pages
Aruuz Articles
View archive →Kalaam
- Bazm-e-Milad-e-Nabi ﷺ Hai Har Musalman Shad Hai
- Ek Nazar Aasman Pe Daal Marhaba
- Farishton Mein Hai Hangama Rasool-e-Paak Aate Hain
- Jashn-e-Aamad-e-Rasool Allah Hi Allah
- Josh Mein Aa Gayi Rahmat-e-Kibriya
- Khuda Ka Fazl Hai Rahmat Hai Barhwein Tareekh
- Raaste Saaf Batate Hain Ke Aap ﷺ Aate Hain
- Sarwar-e-Mursalan Aa Rahe Hain
- Sikka-e-Haq Chalane Huzoor Aa Gaye
- Sooraj Chamak Rahe The Badi Aab-o-Taab Se
Writers & Poets
- Aabid Barelvi
- Adeeb Rai Puri
- Allama Ibrahim Khushtar Siddiqui
- Ameer Meenai Lakhnavi
- Azam Chishti
- Beedam Shah Warisi
- Hafeez Taib
- Hasnain Mian Nazmi Marharvi
- Ilyas Qadri
- Imam Ahmed Raza Khan Barelvi
- Khaled Mahmood Khaled Naqshbandi
- Maulana Hassan Raza Barelvi
- Owais Raza Qadri
- Peer Naseer Uddin Naseer
- Riaz Hussain Chohdri
- Sufi Jameel-ur-Rehman Qadri Razvi
Ashaar
- آئینہ ہا حیرانِ تو شمس و قمر جُویانِ تو
- آج عیدِ عاشِقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ
- آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتا ہے قِیاس
- آفتاب اُن کا ہی چمکے گا جب اَوروں کے چراغ
- آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گِریاں آئے ہیں
- آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
- آہ یا غَوثاہ یا غَیثاہ یا امداد کن
- اب تو نہ روک اے غنی عادتِ سگ بگڑ گئی
- اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامانِ عرب
- ابنِ زَہر اسے ترے دل میں ہیں یہ زہر بھرے
- اپنی رحمت کی طرف دیکھیں حضور
- اپنی سَتّاری کا یارب واسِطہ
- اپنے کُوچہ سے نِکالا تو نہ دو
- اپنے مہمانوں کا صَدقہ ایک بُوند
- اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
- اتنی عرْضِ آخِری کہہ دو کوئی
- اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے
- ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر
- اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالِف تیرے
- اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں
- اِس مُردہ دل کو مژدہ حیاتِ ابد کا دُوں
- اشارہ میں کیا جس نے قمر چاک
- اُگال اس کا اُدھار اَبرار کا ہو
- اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوں
- الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا
- اللہ اللہ بہارِ چَمَنِستانِ عرب
- اللہ اللہ کے نبی سے
- اللہ رے تیرے جسمِ منوّر کی تابِشیں
- ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنی
- اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں
- اُن کے آگے دعویِ ہستی رضاؔ
- اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر
- اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے
- اَنْتَ فِیْہِمْ نے عَدُوْ کو بھی لیا دامن میں
- اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا
- اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
- اُودِی اُودِی بَدلیاں گِھرنے لگیں
- اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار
- اور محبوب ہیں ، ہاں پر سبھی یکساں تو نہیں
- ایمان ہے قالِ مُصطَفائی
- اے شہنشاہِ مدینہ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
- اے جانِ مَن جانانِ من ہم درد ہم دَرمانِ من
- اے رضاؔ چیست غم ار جملہ جہاں دُشمنِ تُست
- اے رضاؔ خود صاحبِ قرآن ہے مدّاحِ حضور
- اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر
- اے شافعِ تردامناں وَے چارۂ دردِ نِہاں
- اے مرہمِ زخمِ جگر یاقوت لب والا گُہر
- اے مَسْنَدَت عرشِ بَریں وَے خادمَت رُوحِ اَمیں
- اے مُقْتَدا شمعِ ہُدیٰ نورِ خدا ظلمت زِدا
- با عطا تم شاہ تم مختار تم
- بادِ صبا جُویانِ تو باغِ خدا از آنِ تو
- بادلوں سے کہیں رُکتی ہے کڑکتی بجلی
- بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
- بازِ اَ شْہَب کی غلامی سے یہ آنکھیں پھرنی
- باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عرب
- باغ میں شکرِ وصل تھا ہجر میں ہائے ہائے گل
- بت شکن آیا یہ کہہ کر سر کے بل بت گر گئے
- بخارا و عراق و چِشت و اَجْمیر
- بزمِ قدسی میں ہے یادِ لب جاں بخش حضور
- بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں
- بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریم
- بَکارِ خَویْش حَیرانَم اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ
- بلبل و نیلپر و کبک بنو پروانو!
- بہجت اس سر کی ہے جو ’’ بَہْجَۃُ الْاَسْرَار‘‘ میں ہے
- بہرِ خدا مرہم بنہ از کارِ مَن بِکُشا گِرہ
- بے داغ لالہ یا قمر بے کلف کہوں
- پائے جبریل نے سرکار سے کیا کیا القاب
- پائے کُوباں پُل سے گزریں گے تِری آواز پر
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زَار ہم
- پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں
- پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
- تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب
- تاجِ فرقِ عرفا کِس کے قدم کو کہئے!
- تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا
- تجمل شبِ اسرا ابھی سمٹ نہ چکا
- تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
- تجھ سے اور دَہر کے اقطاب سے نسبت کیسی
- تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث
- تِرا مجنوں تِرا صَحرا تِرا نَجد
- تِری جاگیر میں ہے شَرق تا غَرب
- تِری شمع دِل آرا کی تَب و تاب
- تشنۂ نہرِ جناں ہر عربی و عجمی!
- تُم کرم سے مُشْترَی ہر عیب کے
- تم نے تو لاکھوں کو جانیں پھیر دِیں
- تمہاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھر
- تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک
- تھک کے بیٹھے تو درِ دِل پہ تَمَنَّائی دوست
- تو اپنے وقت کا صدّیقِ اکبر
- تُو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
- تُو ہے نوشاہ بَراتی ہے یہ سارا گلزار
- تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم
- تیرے تو وَصف عیب تناہی سے ہیں بَری
- ٹوٹ جائیں گے گنہگاروں کے فوراً قید و بند
- جانِ سفر نصیب کو کس نے کہا مزے سے سو
- جان ہے عشقِ مصطفٰے روز فَزوں کرے خدا
- جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں گے
- جس کو للکار دے آتا ہو تو اُلٹا پھر جائے
- جسے عرشِ دوم کہتے ہیں اَفلاک
- جسے مانگے نہ پائیں جاہ والے
- جو تیرا طِفْل ہے، کامل ہے یا غوث
- جو تیرا نام لے ذاکر ہے پیارے
- جو سر دے کر تِرا سودا خریدے
- جو قَرنوں سَیر میں عارف نہ پائیں
- جو کہے شعر و پاسِ شرع دونوں کا حُسن کیوں کر آئے
- جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست
- جوشِش اَبر سے خونِ ُگلِ فردوس کرے
- جووَلی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے
- چاندنی چھٹکی ہے اُن کے نور کی
- چرچے ہوتے ہیں یہ کمھلائے ہوئے پھولوں میں
- چشم پوشی و کرم شانِ شُما
- چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
- چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو
- حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے
- حرماں نصیب ہوں تجھے امید گہ کہوں
- حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
- حُسنِ یوسُف پہ کٹیں مِصْر میں اَنگُشتِ زَناں
- حشر تک ڈالیں گے ہم پَیدائشِ مولیٰ کی دُھوم
- حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
- حُکْم نافِذ ہے تِرا خامَہ تِرا سیف تِری
- حُور سے کیا کہیں موسیٰ سے مگر عرض کریں
- خاک اُفتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے
- خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ
- خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا
- خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا
- خِضرَسْت گُویاں اَلْعَطَش موسیٰ بَاَیْمَنگَشْتہ غَش
- خطابِ حق بھی ہے دربابِ خلق مِنْ اَجَلِکْ
- خوش رہے گُل سے عندلیب خارِ حرم مجھے نصیب
- خوشا دِلے کہ دِہندَش ولائے آلِ رسول
- در ہجرِ توسوزاں دِلم پارہ جگر از رنج و غم
- دست بستہ سب فرشتے پڑھتے ہیں ان پر دُرود
- دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
- دُشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم
- دلِ اعدا کو رضاؔ تیز نمک کی دُھن ہے
- دِل پہ کندہ ہو ترا نام کہ وہ دُزدِ رَجیم
- دل عشق و رُخ حسن آئینہ ہیں
- دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
- دِل کو دے نُور و داغِ عِشق پھر میں فدا دو نیم کر
- دل کو ہے فِکر کس طرح مُردے جِلاتے ہیں حضور
- دل کے ٹکڑے نَذْرِ حاضر لائے ہیں
- دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ
- دل وہی دل ہے جو آنکھوں سے ہو حیرانِ عرب
- دَم قدَم کی خیر اے جانِ مسیح
- دُھوپ محشر کی وہ جاں سَوز قِیامت ہے مگر
- دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھی
- ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے
- ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے
- ڈالیاں جُھومتی ہیں رقصِ خوشی جوش پہ ہے
- راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدّام
- راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے
- راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں
- راہِ نبی میں کیا کمی فرشِ بیاض دِیدہ کی
- رَبِّ ھَبْ ِلیْ اُمَّتِیْ کہتے ہوئے پیدا ہوئے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- رُخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں
- رشکِ قمر ہُوں رنگ رُخِ آفتاب ہُوں
- رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا سبھی کو ہے
- رضاؔ یہ نعتِ نبی نے بُلندیاں بخشیں
- رَنجِ اَعدا کا رضاؔ چارہ ہی کیا ہے جب انھیں
- رہا جو قانعِ یک نانِ سوختہ دن بھَر
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- زِ عکست ماہِ تاباں آفرِیدَند
- زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو
- زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو
- زمین و زماں تمہارے لئے مَکِین و مکاں تمہارے لئے
- زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بَھاری بوجھ، گھائل پاؤں
- زہے عزّت و اِعتلائے مُحَمَّد
- سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف
- ساقِیٔ تسنیم جب تک آ نہ جائیں
- سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی
- سچی بات سکھاتے یہ ہیں
- سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول
- سر جھکا کر بااَدب عشقِ رَسُوْلُ اللہ میں
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- سرِ فلک نہ کبھی تابہ آستاں پہنچا
- سرورِ دِیں لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر
- سرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے
- سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖ
- سُکر کے جوش میں جو ہیں وہ تجھے کیا جانیں
- سگِ دَر قہر سے دیکھے تو بِکھرتا ہے ابھی
- سَمِّ قاتل ہے خدا کی قَسَم اُن کا اِنکار
- سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے
- سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
- سُنّیت سے کھٹکے سب کی آنکھ میں
- سوختہ جانوں پہ وہ پُر جوش رحمت آئے ہیں
- سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈُوبے
- سورج اُلٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاک
- سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
- سیّد کونین سلطانِ جہاں
- شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فِکْر میں ہے
- شادیَ حشر ہے صَدْقے میں چھٹیں گے قیدی
- شاہِ بَرَکات اے ابُو البَرَکات اے سُلطانِ جُود
- شجرِ سرو سہی کِس کے اُگائے تیرے
- شرم سے جھکتی ہے محراب کہ ساجد ہیں حضور
- شکر بِدہ گو یک سخن تَلخ اَست بر مَن جانِ من
- شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
- شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- شوق روکے نہ رُکے پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھے
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- صبح وَطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شَرَف
- صَدقہ اپنے بازووں کا المدد
- صدقے رحمت کے کہاں پھول کہاں خار کا کام
- صدقے ہونے کو چلے آتے ہیں لاکھوں گُلزار
- صفِ ہر شجرہ میں ہوتی ہے سلامی تیری
- طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث
- طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ
- طور پر کوئی، کوئی چرخ پہ یہ عرش سے پار
- طوقِ غم آپ ہوائے پرِ قُمری سے گرے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی
- عرش سے مژدۂ بلقیسِ شفاعت لایا
- عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
- عرصۂ حشر کجا موقفِ محمود کجا
- عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- عَقْل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
- عکس کا دیکھ کے منھ اور بپھَر جاتا ہے
- عَنْدَلِیْبِی پہ جھگڑتے ہیں کٹے مَرتے ہیں
- عینِ کرم زینِ حَرم ماہِ قدم اَنجمِ خَدم
- غَرض آقا سے کروں عَرْض کہ تیری ہے پناہ
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- غنچے چٹکے پھول مہکے چہچہائیں بلبلیں
- فَصْلِ گل سبزہ صبا مستی شباب
- فَصْلِ گل لاکھ نہ ہو وَصْل کی رکھ آس ہزار
- فُیوضِ عالم اُمّی سے تجھ پر
- قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی
- قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے
- قدِ بے سایہ ظِلِّ کِبرِیا ہے
- قِسمتِ ثور و حِرا کی حِرْص ہے
- قصرِ دنٰی کے راز میں عقلیں تو گُم ہیں جیسی ہیں
- کافروں پر تیغِ والا سے گری برقِ غضب
- کب سے پھیلائے ہیں دامن تیغِ عشق
- کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ
- کرمِ نعت کے نزدیک تو کچھ دُور نہیں
- کس بَلا کی مے سے ہیں سَرشار ہم
- کِس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز
- کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح
- کعبہ و عرش میں کہرام ہے ناکامی کا
- کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دِیں ایسی کر
- کہا تو نے کہ جو مانگو ملے گا
- کہہ لے گی سب کچھ اُن کے ثناخواں کی خامُشی
- کوئی سالِک ہے یا واصِل ہے یا غوث
- کوچہ کوچہ میں مہکتی ہے یہاں بوئے قمیص
- کوہ سَرمُکھ ہو تو اِک وار میں دو پرَ کالے
- گردِ ملال اگر دُھلے دِل کی کلی اگر کِھلے
- گردنیں جھک گئیں سر بچھ گئے دِل لوٹ گئے
- گل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سے
- گل مست شُد از بوئے تو بلبل فدائے روئے تو
- گلزارِ قدس کا گلِ رنگیں اَدا کہوں
- گلستاں زار تیری پنکھڑی ہے
- گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں کی چہک
- لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا
- لطفِ اَز خود رَفْتَگی یارب نصیب
- لغزشِ پا کا سہارا ایک تم
- لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
- لیکن رضاؔ نے ختم سخن اس پہ کر دیا
- مِٹ گئے مِٹتے ہیں مِٹ جائیں گے اَعدا تیرے
- مجرم ہُوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا
- مُرغ سب بولتے ہیں بول کے چُپ رہتے ہیں
- مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمر جاوید
- مِرے غنی نے جواہر سے بھر دِیا دامن
- مزرعِ چِشت و بخاراو عِراق و اجمیر
- مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- ملائک کے بشر کے جنّ کے حلقے
- مَلک مَشْغول ہیں اس کی ثنا میں
- مُنھ بھی دیکھا ہے کسی کے عَفو کا
- مہر کس منھ سے جلو داریِ جاناں کرتا
- مہر میزاں میں چھپا ہو تو حمل میں چمکے
- مولا زِ پا اُفتادَہ اَم دارَم شہا چشمِ کرم
- مومنو پڑھتے نہیں کیوں اپنے آقا پر دُرود
- میٹھی باتیں تِری دینِ عجم ایمانِ عرب
- میر ے سَیَّاف کے خنجر سے تجھے باک نہیں
- میکدہ چھٹتا ہے لِلّٰہ ساقیا
- میں وہ سنی ہوں جمیلؔ قادری مرنے کے بعد
- میں نثار ایسا مسلماں کیجے
- میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گمیں
- ناتوانی کا بَھلا ہو بن گئے
- نازِشیں کرتے ہیں آپس میں مَلک
- نجدی اُس نے تجھ کو مہلت دی کہ اس عالم میں ہے
- نزع میں ، گَور میں ، ِمیزاں پہ، سر ِپُل پہ کہیں
- نعمتِ بے بدل مدینہ ہے
- نہ جاگ اُٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیند
- نہ چَونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی
- نہ کیوں ہو تیری منزل عرشِ ثانی
- نہ ہو مایوس آتی ہے صَدا گورِ غریبَاں سے
- نہیں کس چاند کی منزل میں تِرا جلوۂ نور
- ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگا
- ہائے کس وقت لگی پھانس اَلم کی دل میں
- ہاتھ اُٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم
- ہاں چلو حسرت زدو سُنتے ہیں وہ دن آج ہے
- ہَشْت خلد آئیں وہاں کسب لطافت کو رضاؔ
- ہم بھکاری وہ کریم اُن کا خدا اُن سے فزوں
- ہم تو ہیں آپ دِل فِگار غم میں ہنسی ہے ناگوار
- ہمت اے ضعف ان کے دَر پر گِر کے ہوں
- ہے تو رضاؔ نِرا سِتَم جُرم پہ گر لجائیں ہم
- ہے گلِ باغِ قدس رخسارِ زیبائے حضور!
- وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ کا ہے سایہ تجھ پر
- وُسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو
- ولی کیا مُرسَل آئیں خود حضور آئیں
- وہ تو چھوٹا ہی کہا چاہیں کہ ہیں زیرِ حضیض
- وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
- وہیں سے اُبلے ہیں ساتوں سمندر
- یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
- یادِ حُضور کی قسم غفلتِ عیش ہے سِتم
- یارب ایک ساعت میں دھل جائیں سیاہ کاروں کے جرم
- یعقوب گریانَت شُدہ ایوب حیرانَت شدہ
- یہ اُن کے جلوہ نے کیں گرمیاں شبِ اسرا
- یہ اہلِ بیَت کی چکی سے چال سیکھی ہے
- یہ تیری چمپَئی رنگتِ حسینی
- یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِش