Qabala-e-Bakhshish
قبالئہ بخشش
Index / Fehrist
کلام کی فہرستخدا نے اس قدر اونچا کیا پایہ محمد کا
نہ پہنچا نا کسی نے آج تک رتبہ محمد کا
ہے ذکر میرے لب پر ہر صبح و شام تیرا
میں کیا ہوں ساری خلقت لیتی ہے نام تیرا
دو عالم میں روشن ہےاکا تمہارا
ہوا لامکاں تک اجالا تمہارا
خدا نے جس کے سرپرتاج رکھا اپنی رحمت کا
درود اس پر ہو، وہ حاکم بنا ملک رسالت کا
خدا وند جہاں جب خود ہےپیارا تیری صورت کا
تو عالم کیوں نہ ہو بندہ ترے حسن و ملاحت کا
بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا
وہ حسن ہے اے سیدابرار تمہارا
اللہ بھی ہے طالب دیدار تمہارا
ہمارے دل کے آئینہ میں ہے نقشہ محمد کا
ہماری آنکھ کی پتلی میں ہے جلوہ محمد کا
کون ہے وہ جو لکھے رتبۂ اعلیٰ ان کا
وصف جب خود ہی کرے چاہنے والا ان کا
جان و دل یارب ہو قربانِ حبیب کبریا
اور ہاتھوں میں ہو دامانِ حبیب کبریا
کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا
وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا
بحمداللہ عبداللہ کا نور نظر آیا
مبارک آمنہ کا نورِ دل لخت جگر آیا
شاہ کونین جلوہ نما ہوگیا
رنگ عالم کا بالکل نیا ہوگیا
افلاک سے اونچا ہے ایوان محمد کا
مخلوق الٰہی ہے سامان محمد کا
شاہ دو جہاں میں ہے شہرہ تیری رحمت کا
ہر ذرہ ثنا خواں ہے مولیٰ تیری رفعت کا
غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ
نام لیوا ترا کوچہ سے ترے شاد آیا
کب ترے در سے کوئی لوٹ کے نا شاد آیا
سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہر شے پہ لکھا ہے نام ترا ترےذکر کی رفعت کیا کہنا
وہ ماہ عرب آج کعبہ میں چمکا
جو مالک ہے سارے عرب و عجم کا
کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
بج رہا ہے چار سو عالم میں ڈنکا غوث کا
خدا کے فضل سے ہم پر ہے سایہ غوث اعظم کا
ہمیں دونوں جہاں میں ہے سہارا غوث اعظم کا
درد اپنا دے اس قدر یا رب
نہ پڑے چین عمر بھر یارب
چودھویں کا چاند ہے روئے حبیب
اور ہلال عیدا بروئے حبیب
عاشقو ں ورد کرو صلی علیٰ آج کی رات
میں پڑھوں شاہ کی کچھ مدح دثنا آج کی رات
کروں کیا حال دل اظہار یا غوث
کہ تم ہو عالم الاسرار یا غوث
پردہ رخ انور سے جو اٹھا شبِ معراج
جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج
ذکر حضور پاک ہے میرے لیے غذا ئے روح
قلب کا چین اسی سے ہے کہیے اسے دوائے روح
روشن ہے دو عالم میں مہ روئے محمد
کونین ہے عکس رخ نیکوئے محمد
ہر شے میں ہے نور رُخ تابان محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستان محمد
آنکھوں کا تارا نام محمد
دل کا اجالا نام محمد
اس کو کب ہوگل و گلزار عزیز
ہیں مدینے کے جسے خار عزیز
رکھتا ہے جو غوث اعظم سے نیاز
ہوتا ہے خوش اس سے مولیٰ بے نیاز
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
حال دل عرض کروں سید ابرار کے پاس
ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق
یا نبی سب ہے تمہاری رونق
جان و دل سے تم پہ میری جان قرباں غوث پاک
ہے سلامت تم سے میرا دین و ایماں غوثِ پاک
کیا لکھوں عزّو علائے غوث پاک
ہونہیں سکتی ثنائے غوث پاک
یا الہٰی عشق مولیٰ میں مجھے ایسا گما
تا ابد نکلے نہ میرے دل سے ارمان رسول
دل میں ہو میرے جائے محمدﷺ
سر میں رہے سودائے محمدﷺ
جاکے صبا تو کوئے محمد ﷺ
لاکے سنگھا خوشبوئے محمدﷺ
اے شہنشاہ مدینہ الصلوٰۃ والسلام
زنیت عرشِ معلّٰے الصلوٰۃ والسلام
دل کہتا ہے ہر وقت صفت ان کی لکھا کر
کہتی ہے زباں نعت محمد کی پڑھا کر
شہ عرش اعلیٰ سلامٌ علیکم
حبیب خدایا سلامٌ علیکم
ترے جد کی ہے بارہویں غوث اعظم
ملی ہے تجھے گیا رہویں غوث اعظم
ہے دل کو تری جستجو غوث اعظم
زباں پر تری گفتگو غوث اعظم
نہیں میرے اچھے عمل غوث اعظم
مگر تم پہ رکھتا ہوں بل غوث الاعظم
گل بوستان نبی غوث اعظم
مہ آسمان علی غوث اعظم
تری مدح خواں ہر زباں غوث اعظم
ترا نام مومن کی جاں غوث اعظم
حق کے محبوب کی ہم مدح و ثنا کرتے ہیں
اپنے اس آئینہ دل کی جلا کرتے ہیں
اے شکیب جان مضطر رحمۃ للعا لمین
رحم گستر بندہ پرور رحمۃ للعا لمین
میرے مولا میرے سرور رحمۃ للعا لمین
میرے آقا میرے رہبر رحمۃ للعا لمین
امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
جمیلِ قادری شاید حبیب حق بلاتے ہیں
ہوا ہے جلوہ نما وہ نگار آنکھوں میں
کہ آج پھول رہی ہے بہار آنکھوں میں
ہم رسول مدنی کو نہ خدا جانتے ہیں
اور نہ اللہ تعالیٰ سے جدا جانتے ہیں
خدا کے پیارے نبی ہمارے رؤف بھی ہیں رحیم بھی ہیں
رفیع بھی ہیں رسول بھی ہیں مطاع بھی ہیں قسیم بھی ہیں
یہ وہ محفل ہے جس میں احمدِ مختار آتے ہیں
ملائک لے کے رحمت کے یہاں انوار آتے ہیں
کیے کون و مکاں روشن تری تنویر کے قرباں
تو پہنچا لا مکاں پیارے تری توقیر کے قرباں
عالم میں کیا ہے جس کی کہ تجھ کو خبر نہیں
ذرہ ہے کو نسا تری جس پر نظر نہیں
یارسول اللہ آکر دیکھ لو
یا مدینے میں بلا کر دیکھ لو
ہرجگہ ہیں جلوہ گستر دیکھ لو
ہر مکاں ہر دل کے اندر دیکھ لو
باغ دو عالم دم سے تمہارےہے گلزار رسول اللہ
کون و مکاں ہیں رخ سے تمہارے پر انوار رسول اللہ
تمہیں نے تو کیا ہم کو مسلماں یا رسول اللہ
تمہیں تو ہو ہمارا دین و ایماں یا رسول اللہ
کیوں کر نہ ہو مکے سے سوا شان مدینہ
وہ جب کہ ہوا مسکن سلطان مدینہ
یا رب مرے دل میں ہے تمنائے مدینہ
ان آنکھوں سے دکھلا مجھے صحرائے مدینہ
کیا لکھوں میں بھلا رسول اللہ
آپ کا مرتبہ رسول اللہ
کرلو مقبول یا رسول اللہ
یہ مری التجا رسول اللہ
بیاں ہو کس سے کمال محمد عربی
ہے بے مثال جمال محمد عربی
بشر سے غیر ممکن ہے ثنا حضرت محمد کی
خدا کرتا ہے خود قرآن میں مدحت محمد کی
ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمد کی
ہمارے دل میں ہے جلوہ کناں صورت محمد کی
آئینہ منفعل ترے جلوے کے سامنے
ساجد ہیں مہرومہ ترے تلوے کے سامنے
شہنشاہ زمانہ بابزاراں کروفر آئے
کیا عالم پہ قبضہ ملک میں سب خشک و تر آئے
پہنچوں اگر میں روضۂ انوا ر کے سامنے
سب حال دل بیاں کروں سرور کے سامنے
مچی ہے دھوم تحمید و ثنا کی
صدائیں آتی ہیں صل علیٰ کی
یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا کاشانہ رہے
دونوں عالم میں خیال روئے جانانہ رہے
یہ دل عرش اعظم بنا چاہتا ہے
گھر اِس میں نبی کا ہوا چاہتا ہے
دست قدرت نے عجب صورت بنائی آپ کی
والہ و شیدا ہوئی ساری خدائی آپ کی
حبیب خدا عرش پر جانے والے
وہ اک آن میں جاکے پھرآنےوالے
مدینہ میں بلا اے رہنے والے سبزگنبد کے
بدوں کو بھی نِبھا اے رہنے والے سبز گنبد کے
اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی
پھر جا کر مدینہ میں روضے پہ چڑھا ڈالی
جو داغِ عشقِ شہ دیں ہیں دل پہ کھائےہوئے
وہ گویا خلد بریں کی سند ہیں پائے ہوئے
احمد کی رِضا خالقِ عالم کی رِضا ہے
مرضی ِخدا مرضیِ شاہ دوسرا ہے
مچی ہے دھوم پیمبر کی آمد آمد ہے
حبیب خالق اکبر کی آمد آمد ہے
بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے
رباعیات
ہیں مظہر ذات حق رسول اکرم